ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / فلم ’پدماوتی‘ تنازعہ: دیپکا پڈوکونے کی گردن اُڑانے پر ایک کروڑ روپیہ انعام دینے کے اعلان کے بعد اب بی جے پی لیڈر کی ممتا بنرجی کو دھمکی

فلم ’پدماوتی‘ تنازعہ: دیپکا پڈوکونے کی گردن اُڑانے پر ایک کروڑ روپیہ انعام دینے کے اعلان کے بعد اب بی جے پی لیڈر کی ممتا بنرجی کو دھمکی

Sun, 26 Nov 2017 20:31:22    S.O. News Service

ڈیگڑھ ؍کولکاتہ ،26؍نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) فلم پدماوتی میں ہیروئین کا کردار ادا کرنے والی دیپیکا پڈوکونے کی گردن اُڑانے پر ایک کروڑ روپیہ انعام دینے کا اعلان کرنے کے بعد اب  ہریانہ کے بی جے پی لیڈر سورج پال امو نے ہفتہ کو مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کو دھمکی دی ہے کہ ان کا ’سورپنکھا‘جیسا حال ہوگا۔’سورپنکھا‘مہاکاوی رامائن کا ایک کردار ہے، جس کی ناک لکشمن نے کاٹ دی تھی۔ بی جے پی لیڈر نے یہ بیان ممتا بنرجی کے اس بیان کے بعد دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مغربی بنگال سنجے لیلا بھنسالی اور ان کی متنازعہ فلم’پدماوتی‘ اور فلم کی تیاری میں ملوث افراد کا استقبال کرنے کے لئے تیار ہے۔

ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس سمیت مصنف اور ثقافت سے منسلک شخصیتوں نے امو کے بیان پر تنقید کی ہے اور بیان کو ’شرمناک‘ اور ’بدقسمتی‘ قرار دیا ہے۔ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امو نے ’سورپنکھا‘کے حوالہ کا ذکر کیا تھا۔ناک کاٹنے کے تاثرات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مجھے پتہ چلا ہے کہ ممتا بنرجی  سنجے لیلا بھنسالی کولکاتہ آنے کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ وہ اُس کا  استقبال کریں گے۔میں کہتا ہوں کہ یہ رام چندرجی کے لکشمن جی کا گاؤں ہے اور لکشمن جی نے ’سورپنکھا ‘کے ساتھ کیا کیا تھا یہ مجھے آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔سورج پال امو آل انڈیا علاقائی جنرل اسمبلی کے بھی رکن ہیں۔

ادھر ترنمول کانگریس نے امو سے معافی مانگنے کو کہا ہے۔پارٹی جنرل سکریٹری پارتھ چٹرجی نے کہاکہ ان کی زبان اور تبصرہ کونظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔چاہے تو وہ معافی مانگیں، ورنہ ریاست کے لوگ مظاہرہ شروع کریں گے۔نامور بنگالی مصنف شرشیند مکھوپادھیائے نے امو کے تبصرہ کو بدقسمتی بتایا۔انہوں نے کہاکہ مجھے نہیں معلوم کس طرح مخالفت کی جائے۔ایسے بیان سے ہمارے درمیان مایوسی کا احساس پیدا ہوا ہے۔بطور سیاستدان ان کو اپنے الفاظ کا استعمال کرنے میں زیادہ احتیاط برتنی چاہئے۔مجھے نہیں معلوم کہ پولیس کارروائی کیوں نہیں کر رہی ہے۔ایسے بیانات پر پولس کو کاروائی کرنی چاہئے۔


Share: